حال ہی میں مجھے "احیائے علوم" کے چند گذشتہ شماروں کے مشمولات اور اجتہاد کے موضوع سے متعلق کچھ اورتحریریں کم و بیش ایک ساتھ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ان میں کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ کا "جریدہ" بھی تھا جس کے شمارہ 33 میں علامہ اقبال کے ان خطبات پر جنھیں بعد میں "اسلامی فکر کی تشکیل نو" کے عنوان سے شائع کیا گیا، علامہ سیدسلیمان ندوی کے تبصرے شامل ہیں۔"جریدہ" کے مدیر خالد جامعی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس بات کی وجہ جاننے کی بہت کوشش کی کہ علامہ ندوی نے اپنے ان خیالات کا اظہار علامہ اقبال کی زندگی میں کرنے سے کیوں احتراز کیا، لیکن انھیں اپنے اس استفسار کا جواب کہیں سے نہ مل سکا۔ (آپ دیکھیں گے کہ ان تبصرات میں حکیم الامت کا ذکر ہر جگہ بالالتزام "اقبال مرحوم"کے نام سے آتا ہے۔) دراصل اقبال کے خلل ایمان کے بارے میں اپنی قطعی دوٹوک رائے کے باوجود علامہ ندوی کسی سبب سے ان کی شاعری کو ملت کے لیے مفید خیال کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اقبال کے بزعم خود اجتہاد پر نہ صرف اپنی رائے برسرعام ظاہر نہیں کی بلکہ دریاباد والے مولاناماجد کو بھی کسی نہ کسی طرح آمادہ کر لیا کہ وہ صبر سے کام لیں ورنہ بقول علامہ ندوی "مولانا ماجد تو اس معاملہ میں بہت غیرت مند تھے اور چاہتے تھے کہ اقبال مرحوم کے کفر کے خلاف جو کچھ لاوا ان کے دل میں ہے کتابی صورت میں تحریر کر دیں"۔علامہ ندوی نے اقبال کے عقیدت مندوں پربیش بہا احسان کیا ورنہ مولاناماجد کی غیرت کو اپنے عملی اظہار کا موقع مل جاتا تو خدانخواستہ شاعرمشرق کے ساتھ بھی لاہور کی سڑکوں پر وہی سلوک ہو سکتا تھا جو یگانہ کے ساتھ لکھنؤمیں ہوا۔اسے علامہ ندوی اور دیگر علمائے حق سے علامہ اقبال کے اچھے روابط کا کرشمہ جاننا چاہیے (یگانہ سے غالباً یہیں چوک ہوئی) کہ وہ کافر اور ملحد ٹھہرائے جانے کے باوجود رحمت اﷲ علیہ بھی کہلاتے ہیں—یا ممکن ہے ان دونوں باتوں میں تضاد صرف ظاہر کی آنکھ سے تماشا کرنے والوں کو دکھائی دیتا ہو۔
علامہ ندوی کو اس امر میں قطعاً شبہ نہیں کہ علامہ اقبال خطبات میں ظاہر کیے گئے اپنے خیالات کی بنیاد پر کفر، الحاد اور تحریف (بلکہ اس سے بدتر)کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔یہ تمام الفاظ علامہ ندوی اور دیگر علمائے حق جس سہولت اور بے تکلفی سے استعمال کرتے ہیں اس پر واﷲ رشک آتا ہے۔ "جریدہ" ہی کے شمارہ 34 سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال اکادمی لاہور کے سربراہ محمد سہیل عمراور خود "جریدہ" کے مدیر خالد جامعی بھی خطبات کے بارے میں کم وبیش وہی رائے رکھتے ہیں جو علامہ ندوی کی ہے۔ کس قدر قلبی طمانینت اور شکر کا مقام ہے کہ علامہ ندوی اور مولانا ماجد کے سانحہ ٔ ارتحال کے بعد اقبال کا ایمان اور ہم گناہگاروں کی دنیاوعقبیٰ ان دونوں (اور ان جیسے چند ایک اور) علمائے حق کے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔یہ امر البتہ عقل محدود کی رسائی سے باہر ہے کہ کائنات کی حرکت یا خودی بمقابلہ خدائی یا علمائے حق کے بلا شرکت غیرے حق اجتہاد کے موضوعات پر جن خیالات کو نثر(انگریزی یا اردو) میں ظاہر کرنے سے کفر کا فتویٰ وارد ہوتا ہے انھی کو کسی رواں دواں بحر میں ڈھال دینے سے (مثلاً "یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید/کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون"، یا "یزداں بہ کمند آور اے ہمت مردانہ"، یا"دین ملا فی سبیل اﷲ فساد")ملت کا ایمان تازہ کرنے والی شاعری کیونکر پیدا ہو سکتی ہے۔چونکہ کلام اقبال محدود عقل رکھنے والے عوام الناس یا جمہور امت کی نگاہ سے بھی گزر سکتا ہے، اس لیے اقبال اکادمی کے ارباب حل و عقدکو چاہیے کہ احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی شائع کردہ کلیات اقبال میں سے اس قسم کے اشعار کوخارج کرنے کا اہتمام کریں۔ اس کا ایک ضمنی فائدہ یہ ہو گا کہ کلیات کی ضخامت ایک چوتھائی سے کم رہ جائے گی؛ اشاعت کے اخراجات میں ہونے والی اس بچت سے اکادمی کے صاحب ایمان و اجتہاد عملے کے مشاہرے میں اضافے کی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔
علامہ ندوی اور محمد سہیل عمر دونوں شہادت دیتے ہیں کہ اقبال نے رحلت سے پیشتر اپنے کفروالحاد پر مبنی خیالات سے رجوع کر لیا تھا اور خطبات پر نظرثانی کا ارادہ رکھتے تھے لیکن پیک اجل نے انھیں اس کی مہلت نہ دی۔ اس معتبر شہادت کی بنیاد پر خطبات کا متن منسوخ ٹھہرتا ہے، چنانچہ خطبات کی متواتر اشاعت اور ہسپانوی اور دیگر زبانوںمیں ان کے ترجمے کا کام جاری رکھنے کا بھی کوئی جواز نہیں معلوم ہوتا۔ اسے روک دینے سے قومی خزانے پر پڑنے والا بوجھ مزید کم ہو سکتا ہے اور امت بھی ان گمراہ کن خیالات سے محفوظ رہ سکتی ہے۔
اجتہاد کے موضوع پر آپ (سید قاسم محمود، مدیر"احیائے علوم" )نے شمارہ 8 اور 9 میں جن تحریروں کو جگہ دی ہے ان میں باہم متضاد خیالات ظاہر کیے گئے ہیں۔ خود آپ کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میںغزالی اور ابن خلدون کی راہ پر چلنا ہمارے کام نہیں آ سکتا۔ ڈاکٹر کنیز فاطمہ کو اعتراض ہے کہ اجتہاد کو مذہبی دائرے میں قید کر دیا گیا ہے۔ جبکہ شمارہ 9 کے مراسلہ نگار کو اس اعتراض پر یہ اعتراض ہے کہ اجتہاد وہی شخص کر سکتا ہے جو اس کے لیے ضروری مذہبی شرائط پوری کرتا ہو۔ اگر اجتہاد سے مراد یہ طے کرنا ہے کہ کسی معاصر مسئلے پر قرآن و سنت اور فقہ کی رو سے کون سا موقف درست ہے، تو علامہ ندوی اور دیگر علمائے حق کا اس امر پر اصرار قابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کرنے والے کو نہ صرف قرآن، سنت، حدیث ، فقہ وغیرہ سے گہری واقفیت ہونی چاہیے بلکہ عربی زبان پر عبور بھی لازمی ہے، اور عقیدے اورایمان کی سلامتی کی شرط تو ہے ہی۔یہ کام اگرسرسید، اقبال، علامہ مشرقی، غلام احمد پرویز جیسے افراد کے ہاتھوں انجام پائے گا تو وہ اسلام سے اپنے مطلب کے معنی برآمد کرکے دین حق کی شکل مسخ کرنے کے سوا بھلااورکیا کریں گے۔اس لیے میری کم مایہ رائے میں مذہبی موقف کی تعبیر یعنی اجتہادکا کام علمائے حق ہی کے لیے چھوڑ دینا مناسب ہے۔
اس کے برخلاف ایک اور کام ایسا ہے، جسے فیصلہ سازی کا نام دیا جائے تو غیرموزوں نہ ہو گا، جو امت کے اکابرواصاغربشمول علمائے حق و عوام کالانعام اپنی اپنی سرگرمیوں کے دائرے میں متواتر کیا ہی کرتے ہیں۔ یہ بات کسی قدر تفصیل کی متقاضی ہے جو میں ذیل میں پیش کرتا ہوں۔
علامہ ندوی کا قطعی فیصلہ ہے کہ "ملوکیت قرآن سے ثابت ہے، اسے قابل نفرت قرار دینے کی شرعی توجیہہ نہیں کی جا سکتی...یہ کہنا کہ اسلام اور خلافت کا نظام خالصتاً جمہوری ہے، تاریخ اسلام کے لیے ایک اجنبی تصور ہے۔ اب دیکھیے حضرت ابوبکر کی خلافت کا اعلان پہلے کیا گیا، بیعت بعد میں ہوئی۔ خلیفہ تو انھیں مقرر کر دیا گیا۔ اس تقرری کا فیصلہ عوام نے نہیں ارباب حل و عقد نے کیا۔ یہ کون لوگ تھے؟ کیا یہ منتخب ہوئے تھے؟ کیا رسول اﷲ نے انھیں خلافت کے فیصلے کا اختیار دیا تھا؟...ان کی حیثیت مسلمہ تھی۔ جس طرح اہل عرب اپنی اولاد کو پہچانتے تھے اسی طرح ان لوگوں کی اہمیت، حیثیت سے بخوبی واقف تھے، لہٰذا کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ہر کہہ و مہہ کو خلافت کے فیصلے میں نہ شریک کیا جا سکتا تھا نہ شریک کرنے کی ضرورت تھی۔اتنے اہم منصب کا فیصلہ ارباب حل و عقد کریں گے یا ہر ایک سے پوچھا جائے گا؟ قرآن کریم اس معاملے میں واضح ہدایات دیتا ہے جس سے جمہوریت کے فلسفۂ عوام کی نفی ہوتی ہے۔" چنانچہ جب ہدایات کے عین مطابق ملوکیت رائج ہو گئی تو مسئلہ درپیش ہوا کہ ایسے ارباب حل و عقد کہاں سے لائے جائیں جن کی حیثیت مسلمہ اور ناقابل مزاحمت ہو۔ یہ ممکن نہ تھا چنانچہ ان حالات میں برادرکشی کا نسبتاً زیادہ سہل اور موثر طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس طریقے کے بے شمار عاملین میں حضرت اورنگزیب عالمگیر رحمت اﷲ علیہ کا نام بھی آتا ہے جن کی بابت ایمان کی راہ سے ہٹنے کا گمان کیا ہی نہیں جا سکتا۔ خوش قسمتی سے ہر مقتول برادر اور برادرزادے کے سلسلے میں کسی نہ کسی بنیاد پر واجب القتل ہونے کا شرعی جواز ، ترجیحاً قتل سے پیشتر ورنہ بعدازاں،علمائے حق کے فتوے سے دستیاب ہو جاتا رہااور یوںیہ ملوکانہ اجتہاد قیدِشریعت ہی میں رہا۔ہر کہہ ومہہ کو ان فیصلوں میں شریک کرنے کا تو ظاہر ہے کوئی سوال ہی نہیں اٹھتاتھا، اور نہ اب تک اٹھتا ہے۔
لیکن اگر حالات کے پیش نظر کوئی ایسا فیصلہ کرنا ناگزیر ہو جائے جس کی تائید شرعی اجتہاد سے نہ ہو سکتی ہو تو بیشتر اہل ایمان کا دستور ہے کہ اسلامی تعلیمات کو اپنے عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے بجائے خاموشی سے اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کر لیتے ہیںاور یوں ایمان سلامت لے جاتے ہیں۔اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثلاً مولوی (ڈپٹی) نذیر احمد کا ایمان ("امہات الامہ" کا مصنف ہونے کے باوجود جو اگر آج شائع ہوتی تو شاید تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کی زد میں آ جاتی)کسی بھی قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہے، لیکن انھوں نے سودخوری کو بلاتکلف اختیار کیا، جس کے حرام ہونے پر اجماع امت ہے اورجو بقول علامہ ندوی کے بنیوں اور پٹھانوں کا شعار ہے۔ الحمدﷲ کہ 1947 میں ہمیں بنیوں سے نجات نصیب ہوئی۔ تاہم پٹھان سودخور آج بھی پہلے کی طرح سرگرم ہیں۔علاوہ انفرادی اور خاندانی احتیاج کے تحت لیے جانے والے سودی قرضوں کے، کراچی شہر میں چلنے والی بیشتر بسیں اور تمام منی بسیں انھی کے جذبۂ عمل کے ذریعے سڑکوں پر آئی ہیں، اور ان کی شرح سود بینکوں کی شرح منافع کے مقابلے میں آٹھ سے دس گنا تک ہے۔ اس کاروبار سے وابستہ بیشتر اہل ایمان نہ صرف مولوی نذیر احمد کی طرح باریش ہیں بلکہ حاجی بھی ہیں اور انتخابات میں(جن کا ویسے کوئی شرعی جواز نہیں) عموماً مذہبی سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ غالباًیہی وجہ ہے (یا کوئی اور وجہ ہوگی، واﷲ اعلم بالصواب) کہ ربا کے موضوع پر ہونے والی تمام بحث میں بینکوں کا ذکر تو خوب ملے گا لیکن ان نیک روحوں کا کہیں تذکرہ نہیں ہو گا۔ ان کی تالیف قلوب کے خیال سے نہ کبھی ان کے خلاف کسی لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا اور نہ کوئی احتجاجی مہم چلائی گئی۔امیرالمومنین جنرل ضیا الحق شہید رحمت اﷲ علیہ نے بھی شریعت کے نفاذ کی مہم کے دوران بینکوں کوتو ضرور بے سود بینکاری میں مبتلا کیا لیکن ان سودخوروں کے باب میں عفوودرگزر سے کام لیا۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز کی تصانیف میں قطع اللحیہ (داڑھی مونڈنے)، تصویر کھنچوانے اور کھینچنے، غیرمسلموں کی وضع قطع اختیار کرنے جیسے کاموں کی حرمت صاف صاف بیان ہوئی ہے۔ امت کے اکابر نے، الاماشاء اﷲ، جو طرزعمل اختیار کیا وہ اس واضح شرعی فیصلے کی ضد تھا۔ ان میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ سرمحمد اقبال، قائدملت (بعدازاں شہید ملت)لیاقت علی خاں، جنرل (بعدازاں فیلڈ مارشل)ایوب خاں، امیرالمومنین بننے میں چند گھنٹوں کے فرق سے ناکام رہنے والے جنرل یحییٰ خاں، ذوالفقار علی بھٹوشہید،ان کو رتبۂ شہادت پر فائز کرنے والے امیرالمومنین جنرل ضیا الحق شہید وغیرہ سے تاحال تمام اولی الامر شامل ہیں۔دنیائے ادب میں محمد حسن عسکری کے ظہور کے بعد سے حکیم الامت ثانی (یا ممکن ہے حضرت تھانوی نور اﷲ مرقدہ' اول ہوںاور اقبال ثانی) کے عقیدت مندوں کی تعداد اردو کے ادیبوں اور نقادوں میں بھی بہت بڑھ گئی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اور ابوالکلام قاسمی سے لے کر سلیم احمد، جمال پانی پتی، مشفق خواجہ، آصف فرخی اور مبین مرزا تک ان تمام خوش عقیدہ بزرگوں کی عسکری صاحب اور بالواسطہ (یا بلاواسطہ) حضرت تھانوی سے عقیدت میں کیا کلام ہو سکتا ہے۔ البتہ مذکورہ بالا تمام امور میں ان سب نے علمائے حق کے شرعی فیصلے پر حرف گیری سے احتراز کرتے ہوے اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کیا اور اس پر قائم رہے۔عسکری کا رتبہ چونکہ ان سب سے سوا تھا، اس لیے وہ یہ تک کہنے کا ہیاؤ رکھتے تھے کہ "دین میں نے صرف کتابوں سے ہی نہیں بلکہ کیمرے کے لینس سے بھی سیکھا ہے"۔ایک ایسے فعل سے جس کی حرمت پر اجماع امت ہے، دین سیکھنے کا کام لینا—اﷲ اﷲ! انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد۔ ان کی کتاب "وقت کی راگنی" میں موسیقی جیسے فعل حرام سے بھی دین کی بصیرت اخذ کرنے کی مثالیں ملتی ہیں۔اس پر قیاس کیا جائے توغالباً مولوی نذیر احمد بھی کہہ سکتے تھے کہ دین انھوں نے سرکارانگلیشیہ کے سررشتۂ تعلیم کے لیے تحریرکردہ انعام یافتہ کتابوں ہی سے نہیں بلکہ سودخوری سے بھی سیکھا ہے۔
علامہ شبلی نعمانی کو، کہ شمس العلما ہونے کے ساتھ ساتھ ندوۃ العلما کے قائد بھی تھے، یقینا معلوم ہوگا کہ فقہ (حنفیہ)کی رو سے کسی نامحرم عورت کے چہرے اور سراپے پر نظر ڈالنا آنکھوں کا زنا، اس سے بات کرنا زبان کا زنا، اس کی بات سننا کانوں کا زنا(اور غالباً اس سے مراسلت کرنا قلم کا زنا)ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے عطیہ فیضی کی صحبت ملائم سے حتی الوسع لطف اندوز ہونے کا انتخاب کیا۔ البتہ ایسی کوئی شہادت غالباً نہیں ملتی کہ انھوں نے اپنی حیات معاشقہ کا کوئی شرعی جواز یا عذرلنگ تراشنے کی کوشش کی ہو۔ انگریزوں کی ملازمت کرنے اور اپنی اولاد کو انگریزی طرزِتعلیم اور طرزحیات کی غلامی میں مبتلا کرنے کی بابت فقہی اور وایتی نقطۂ نظر سے حضرت اکبرالٰہ آبادی علیہ الرحمہ سے بڑھ کر کون واقف ہو گا؛ البتہ انھوں نے اس ذکر کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ "مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں/فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں" اور ان امور کے باب میں جو چاہا وہ کیا۔
الناس علیٰ دین ملوکہم۔ عوام الناس بھی عرصۂ دراز سے جدید زندگی سے متعلق خود کو درپیش فیصلوں کے سلسلے میں یہی طرزعمل اختیار کیے ہوے ہیں اگرچہ اجتہاد جیسے نازک کام میں ہاتھ ڈالنے کا وہ تصور تک نہیں کر سکتے۔ "جنگ" اخبار کے ہفتہ وار کالم "آپ کے مسائل اور ان کا حل" میں متعدد بار بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کی ملازمت اور ٹی وی دیکھنے یا اس پر کام کرنے کے قطعاً حرام ہونے کے اعلان کے باوجود ایسا اب تک تو دیکھنے میں نہیں آیا کہ بینکوں وغیرہ سے بڑی تعداد میں اجتماعی استعفے دیے گئے ہوں یا لوگوں نے ٹی وی دیکھنا یا اس پر کام کرنا چھوڑدیا ہو۔عوام الناس کی توبات چھوڑیے، خود علمائے حق کو دن کے کسی بھی وقت ٹی وی کے کسی نہ کسی چینل کے اسکرین پر جلوہ افروز دیکھا جا سکتا ہے۔چونکہ اجتہاد کے لیے درکارشرائط پوری کرنے کا موقع اور وقت عوام کو دستیاب نہیں ہوتا، اس لیے وہ یہ کام علمائے حق کے سپرد کر کے اپنے معاملات کا فیصلہ اپنی محدود عقل کے مطابق خود ہی کر لیتے ہیں۔ مثلاً اس بات پر علمائے حق کا اجماع ہے کہ ضبط تولید اسلام کی رو سے ناجائز ہے۔ اب اگر کسی شخص کو کثرت اولاد سے پیدا ہونے والے فوری مسائل کا سامنا ہے تو وہ اجتہاد کے قابل ہونے کے لیے درس نظامی میں داخلہ تو لینے سے رہا؛ وہ علمائے حق کا واجب احترام ملحوظ اور اپنا عقیدہ قائم رکھتے ہوے بہبودآبادی کے کسی قریبی مرکز سے رابطہ کر کے مناسب اقدام کر لیتا ہے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ اپریل 1979کے اولین ہفتے میں (ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے کے فوراً بعد) مختلف مکاتب فکر کے علمائے حق کا یہ فتویٰ اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ غائبانہ نمازجنازہ کا شریعت میں کوئی تصور نہیں اور یہ قطعی حرام ہے۔ لیکن جو لوگ یہ نماز ادا کرنا چاہتے تھے وہ اس صریح فتوے کے باوجود اپنے کام میں مشغول رہے۔ یہ کام اگست 1988 کے تیسرے ہفتے میں بھی (جنرل ضیا کے ہوائی حادثے میں ہلاک ہونے کے بعد)مختلف مقامات پر، کہا جاتا ہے کہ مسجد نبوی میں بھی، انجام دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں علمائے حق کی جانب سے اجتہاد کے عمل کے دوران ایک ہی مسئلے پر ایک سے زیادہ ایسے فیصلوں کی مثالیں مل جاتی ہیں جو ایک دوسرے کی تردید کرتے معلوم ہوتے ہیں، مثلاً لاؤاسپیکر کا استعمال، جو پہلے حرام تھا، بعد میں حلال قرار پایا؛ لیکن علمائے حق کی حکمت پر حرف زنی کی عوام الناس کو کیا مجال، البتہ ان میں سے بہت سوں کو اس حسرت کا دبی زبان سے اظہار کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ کاش اس ایک معاملے میں انھوں نے اپنے پہلے فیصلے پر استقرار کو موزوں سمجھا ہوتا۔
آپ کی فرقوں اور مسلکوں کے بارے میں صلح کل کی پالیسی علمائے حق کے اصولی موقف کو نظرانداز کرتی معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں سرسید کی بات بھی بڑی دلچسپ معلوم ہوئی۔ کہتے ہیں کہ فرقوں کی کثرت اور ایک فرقے کی طرف سے دوسرے کی تکفیر سے اسلام کے نور پر کچھ فرق نہیں پڑتا اور وہ بدستور بڑھتا جاتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب کسی بھی مسلک یا فقہ سے تعلق رکھنے والے علمائے حق قرآن، سنت اور فقہ کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان کا مخالف فرقہ اپنے عقائد یا اعمال یا رسوم کی بنیاد پر کافر یا مشرک ہے تو آپ ان سے آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے اور باطل کو حق (یا تقریباً حق) قرار دینے کی توقع کیونکر کر سکتے ہیں۔ دیوبندی فقہ کی رو سے بریلوی حضرات مشرک اوراہل حدیث، شیعہ اور اسمٰعیلی عقائد رکھنے والے کافر ہیں۔ (دیگر فرقوں کے علمائے حق کی نظر میں وہ خود دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔) تاہم علمائے حق کے ہر خطیبانہ بیان میں پاکستان کے چودہ (یا شایداب اٹھارہ) کروڑمسلمان عوام کا ذکرموجود ہوتا ہے اور وہ ان (اور دیگر)خارج از اسلام فرقوں کی آبادی کو مسلمانوں کی کل تعداد میں سے منہا کرنا ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔ان کی غیرت ایمانی غالباً تمام مخالف فرقوں سے وہی سلوک کرنے کا تقاضا کرتی ہو گی جو ہمارے ملک میں قادیانیوں سے روا رکھا جاتا ہے لیکن ان کی عددی یا مادی قوت کے باعث (یا کسی اور سبب سے، واﷲ اعلم بالصواب)ایسا کرنے سے محترز رہتے ہیں۔(قادیانیوں کو ان تمام فرقوں کے مقابلے میں وہی یگانہ حیثیت حاصل ہے جو علامہ اقبال، سرسید، شبلی، وغیرہ کے مقابلے میں یگانہ کو حاصل ہوئی تھی۔) یہی طرزعمل اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب شیعوں کو کافر قرار دینے کے ساتھ ساتھ علمائے حق ایران، عراق اور شیعہ اکثریت کے دیگر ملکوں کو مسلم ملکوں ہی کی فہرست میں جگہ دیتے ہیں۔علمائے حق کے طرزعمل کی حکمت تک ہم جیسے گناہ گار عوام الناس کی محدود عقل کہاں بار پا سکتی ہے۔لیکن یہ بات تسلیم کرنی ہی پڑتی ہے کہ تکفیر باہمی کے اس اجتہادی عمل سے کثیرمسلکی معاشرے کے لیے پرامن بقائے باہمی کے اصول برآمد کرنا ایک دشوار کام ہے۔البتہ اس کے لیے ضروری امر یہ ہے کہ اجتہاد اور فیصلہ سازی کے دائروں کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے، ورنہ وہی صورت حال پیدا ہوگی جو بعدازانقلاب ایران اور طالبان کے افغانستان میں رونما ہوئی۔
علامہ ندوی نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ اقبال مرحوم علمائے حق کی قوت سے خائف رہتے تھے۔ یہ امر جس طرح حیات عارضی میں ان کی سلامتی کی ضمانت بنا اسی طرح امید ہے کہ حیات ابدی میں ان کی بخشش کا سبب بنے گا۔ ہمیں بھی اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوے اس قوت سے حتی الوسع ڈرتے رہنا چاہیے اور استغفار کا ورد جاری رکھنا چاہیے۔ اقبال کی کفروالحاد کی روایت کے امین فیض احمد فیض کا شعر ہے:
خالی ہیں گرچہ مسند و منبر نگوں ہے خلق
رعب قبا و ہیبت دستار دیکھنا

سوشل بک مارک کیجئے : Social Book marking


 

تبصرہ کیجئے